بنگلورو،4مارچ(ایس او نیوز)تنخواہوں پر نظر ثانی اور عدم توازن کو دور کرنے کی مانگ پر بضد پی یو سی لکچررس نے جوابی پرچوں کی جانچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات آج لکچررس کی اسوسی ایشن کے صدر تمیا پرلے نے بتائی۔ آج پی یو سی لکچررس کی طرف سے اپنے مطالبات پر زور دینے کئے گئے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے تمیا پرلے نے بتایاکہ پی یو سی لکچررس کی تنخواہوں کے عدم توازن کو دور کرنے کے مطالبے پر حکومت کی طرف سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ برسوں سے یہ مطالبہ زیر التواء ہے۔ یکے بعد دیگر کسی بھی حکومت نے اس مطالبے کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلی بار بھی جب لکچررس نے اسی بات کو لے کر جوابی پرچوں کا بائیکاٹ کیاتھا تو حکومت نے مسئلہ سلجھانے کی یقین دہانی کرائی تھی، اس بار حکومت پر بھروسہ کرکے لکچررس نے اپنا احتجاج واپس لیا تھا، لیکن حکومت اپنے وعدہ سے مکرگئی ، جس کی وجہ سے اس بار بھی یہی روش اپنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضلعی سطح پر احتجاج کرکے اس سلسلے میں حکومت کو متوجہ کرانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ امتحان کے دوران تمام پی یو سی لکچررس اپنے مطالبے پر زور دینے سیاہ پٹیاں باندھ کر امتحانات چلائیں گے۔اس کے بعد بھی اگر مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو جوابی پرچوں کی جانچ کا بائیکاٹ کرنا ناگزیر ہوجائے گا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے امتحان یا جوابی پرچوں کی جانچ میں رخنہ ڈالنے لکچررس کی کسی بھی کوشش کو روکنے کیلئے قانون وضع کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے تمیا پرلے نے کہاکہ لکچررس کیلئے احتجاج کرتے ہوئے جیل جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے اگر ایسا کوئی موقف اپنایا جاتا ہے تو لکچررس اس کا سامنا کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔ اس موقع پر پرنسپلس کی اسوسی ایشن کے صدر شری کنٹیا نے کہاکہ طلبا کے ساتھ کسی بھی طرح کی ناانصافی نہ ہونے پائے اس کیلئے لکچررس نے تمام نصاب بروقت مکمل کروادیا ہے، وہ امتحان کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال چھٹیوں کے ایام میں بھی جوابی پرچوں کی جانچ کرکے لکچررس نے اپنی ذمہ داری نبھائی ، لیکن امسال ریاستی حکومت ابتداء میں ہی احتجاج کو کچلنے پر آمادہ نظر آرہی ہے۔ محکمۂ تعلیمات کے کمشنر نے پولیس حکام کو مکتوب روانہ کرکے ہدایت دی ہے کہ لکچررس کے احتجاج کو سختی سے کچلا جائے اور خاطیوں کے خلاف مقدمے درج کئے جائیں۔ حکومت کا یہ رویہ درست نہیں۔